ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / دہائی کا پہلا مکمل حلقہ دار سورج گرہن، سورج گہن کے شروع میں چاند ایسا نظر آیا جیسے کسی نے سیب کا ایک حصہ کاٹ لیا ہو

دہائی کا پہلا مکمل حلقہ دار سورج گرہن، سورج گہن کے شروع میں چاند ایسا نظر آیا جیسے کسی نے سیب کا ایک حصہ کاٹ لیا ہو

Sun, 21 Jun 2020 18:49:04    S.O. News Service

بھٹکل 21/ جون (ایس او نیوز)   دہائی کا پہلا مکمل سورج گرہن اتوار کو ہوا۔ یہ حلقہ دار سورج گرہن تھا جس کے مشاہدہ کے لئے لوگ کافی پُرجوش تھے۔ جب سورج اور چاند ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوتے ہیں تو مکمل سورج گرہن ہوتا ہے لیکن چاند کا سائز نسبتاً چھوٹا ہوتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ سورج چمکتی ہوئی انگوٹھی کی طرح لگتا ہے۔

سورج گرہن کے موقع پر بھٹکل کی کئی مساجد میں خصوصی نماز صلاۃ الکسوف ادا کی گئیں اور کافی لوگوں نےنماز میں شرکت کی۔ 

سورج گرہن کے دوران بھٹکل کی شاہراہوں پر لوگوں کی آمد و رفت میں کافی کمی دیکھی گئی، کچھ لوگ اپنے ہوٹلس اور دکانوں کو بھی بند رکھا تھا، بھٹکل میں ویسے سورج گرہن کا مشاہدہ نہیں کیا جاسکا، البتہ  دوپہر  تک شہر میں  سورج کی کرنیں نظر نہیں آئیں،  مگر دوپہر  سورج گرہن مکمل ہونے کے بعد جب سورج نے واپس روشنی بکھیرنی شروع کی تو  اُس کے ساتھ ہی  لوگوں کی آمد ورفت بھی شروع ہوگئی۔

ذرائع نے بتایا کہ اس موقع پر بھٹکل کے کئی لوگوں نے صبح چھ بجے سے پہلے ہی ناشتہ کھایا پھر سورج گرہن کے دوران  کھانوں کو ہاتھ نہیں لگایا۔ خبر یہ بھی ملی کہ بھٹکل کے رکن اسمبلی سنیل نائک نے اس دوران بحر عرب میں پہنچ کر سمندر میں  غوطہ لگایا۔

ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق مکمل سورج گرہن صرف شمالی ہندوستان میں کچھ جگہوں پر دیکھا گیا جبکہ یہ جزوی طور پر ملک کے دیگر حصوں میں بھی دیکھا گیا۔ صبح 9.56 سے شام 14.29 بجے تک ہندوستان میں مختلف مقامات پر مختلف وقتوں پر سورج گرہن دیکھا گیا۔ بیشتر مقامات پر جزوی سورج گرہن نظر آیا۔ سورت گڑھ (راجستھان)، سرسا، کوروکشیترا (ہریانہ)، اور اتراکھنڈ کے دہرادون، چمولی اور جوشی مٹھ میں، لوگوں کو مکمل حلقہ دار سورج گرہن دیکھنے کا موقع ملا۔ ہندوستان میں دوارکا کے لوگوں نے پہلے یعنی  صبح 9.56 کو سورج گرہن کا مشاہدہ کیا جبکہ آخر میں (یعنی دوپہر بعد 14.29 بجے) سورج گرہن آسام کے ڈبرو گڑھ میں نظر آیا۔

اطلاعات کے مطابق  ملک کے کئی مقامات پر گرہن کے دوران چاند کا سائز سورج سے ایک فی صد کم نظرآیا۔ سورج گرہن کے شروع میں چاند ایسا نظر آیا  جیسے کسی نے سیب کا ایک حصہ کاٹ لیا ہو۔ سورج کا ایک چھوٹا حصہ چاند سے چھپ گیا تھا  جبکہ   بعد میں چاند کی ڈسک بڑی ہوتی گئی  اور سورج کا بڑا حصہ چھپنے لگا۔

گرہن کے دوران چاند کی پرچھائی زمین پر دیکھی گئی اور لوگ سورج پر چھائے ہوئے چاند کو دیکھ سکتے تھے۔ یہاں تک کہ وہ سورج کے بیچ میں پہنچ گیا تھا۔ چونکہ چاند سورج کو پوری طرح  ڈھک نہیں سکتا تھا، اِس لئے چاند کے ارد گرد سورج کی روشنی کا ایک چمک دار چھلہ نظر آرہا تھا۔ اس وجہ سے ہی اِس طرح کے سورج گرہن کو رِنگ آف فائر یا حلقہ دار سورج گرہن کا نام دیا گیا ۔


Share: